ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اوباما کا ایران کو 130ٹن یورینیم کا خفیہ تحفہ!

اوباما کا ایران کو 130ٹن یورینیم کا خفیہ تحفہ!

Thu, 12 Jan 2017 18:59:47    S.O. News Service

واشنگٹن،12؍جنوری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امریکی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ صدر باراک اوباما نے سبکدوشی سے قبل ایران کو خفیہ طور پر 130ٹن افزودہ کیے جانے کے قابل یورنیم خفیہ طور پر دینے کی منظوری دی ہے۔ ایران اس یورینیم کو جوہری تنصیبات کے لیے بہ طور ایندھن یا ایٹم بم کی تیاری کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔امریکی اخبارڈیلی وائر نے اپنی رپورٹ میں سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا ہیکہ افزودہ کیے جانے کے قابل قدرتی خام حالت میں یورینیم کا ایک بھاری بھرکم ٹرک روس سے ایران کو فراہم کیا جائے گا۔ تاکہ ٹھنڈے ری ایکٹر کے لیے ایندھن درآمد کرنے میں تہران کی مدد کی جاسکے۔ صدر اوباما کی طرف سے ایران کو یہ تحفہ ان کی مدت صدارت ختم ہونے کے آخری ایام میں دیا جا رہا ہے۔

امریکا کے دو سفارت کاروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی صدر باراک اوباما اور پانچ عالمی طاقتوں کی طرف سے منظوری کے بعد تہران کو 130ٹن یورینیم قدرتی حالت میں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آئندہ چند روز میں تہران کو مذکورہ مقدار میں یورینیم خفیہ طور پر فراہم کیا جائے گا۔سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کو یورینیم کی فراہمی سلامتی کونسل کی منظوری سے ہی ہونی چاہیے مگر جن پانچ عالمی طاقتوں کی طرف سے یہ منظوری دی گئی ہے وہ سلامتی کونسل کی مستقل رکن ہیں۔اس خفیہ ڈیل کے تحت روس ایران کو 40میٹر ٹن(44ٹن)بھاری پانی فراہم کرچکا ہے۔ امریکا 30ٹن یورینیم جلد ہی ایران کو بھجوائے گا جب کہ سلطنت اومان بھی تہران کو بھاری پانی فراہم کرے گا۔ڈیلی وائر کے مطابق امریکا کی طرف سے ایران کو فراہم کردہ یورینیم آئندہ 25سال تک عالمی توانائی ایجنسی کی زیرنگرانی استعمال ہوگا۔ بین الاقوامی سیکیورٹی وسائنس انسٹیٹیوٹ سے وابستہ تجزیہ نگار ڈیوڈ البرائیٹ کا کہنا ہے کہ مذکورہ یورینیم سے ایران با آسانی 10جوہری بم تیار کرسکتا ہے۔ادھر دوسری جانب ایران نے امریکی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے۔ جوہری معاہدے پر طے پائے کی فالو اپ کمیٹی کے چیئرمین عباس عراقجی نے کہا ہے کہ ایران معاہدے کے تحت یورینیم کی ذخیرہ شدہ مقدار کو300کلو گرام سے کم رکھنے کے فیصلے پر قائم ہے۔


Share: